………..رک گئی زبان خود کو مسلماں کہتے کہتے………..

ایک جگہ ایک ادبی محفل جمی ہوئی تھی، جہاں موجود شرکاء ایک دوسرے سے مختلف مصنفوں کی تصانیف پر اظہارِ خیال کر رہے تهے، اس محفل میں ایک ایسا شخص بهی تها جسے اردو ادب سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تها، وہ بس دوسروں کی گفتگو سن کر ہی اپنا وقت گزار رہا تها…
اتنے میں ایک صاحب نے اس شخص سے مخاطب ہو کر کہا: کیوں بهئی! تم نے فلاں مصنف کے ناول پڑهے ہیں..؟
اس شخص نے نفی میں سر ہلا دیا..
پورے مجمع نے اسے حیرت سے اس طرح دیکھا جیسے وہ کسی اور ہی سیارے کی مخلوق ہو.
“ارے اتنا مشہور و معروف مصنف ہے اور تم نے آج تک اس کا کوئی ناول نہیں پڑها” ان صاحب نے اپنی حیرت کا اظہار کیا
وہ شخص تهوڑا سا شرمندہ ہو گیا، لیکن پهر خود کو سنبھالتے ہوئے بولا:
محترم آپ نے قرآن مجید ترجمے کے ساتھ پڑھا ہے؟
وہ صاحب ایک دم چونک گئے، اور پهر ان کا چہرہ بتانے لگا کہ وہ اس کام سے بالکل غافل رہے ہیں..
اس شخص نے افسوس کے ساتھ کہا کہ
“کسی بهی مصنف کی کتاب اتنی مشہور نہیں جتنی “کتاب اللہ” ہے، لیکن اس کے “نہ پڑهنے پر نہ تو کسی کو حیرت ہوتی ہے اور نہ پڑهنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے. میں کوئی اور کتاب پڑهوں یا نہ پڑهوں لیکن الحمدللہ کلامِ الہی روزانہ پڑهتا ہوں

.اب شرمندہ ہونے کی باری پورے مجمع کی تهی….

مجھے ہے حکمِ اذاں” سے اِقتباس ۔۔۔ مصنف : اْمِ مریم


Contributed by: Sr. Sabeen Aslam

Advertisements

One thought on “………..رک گئی زبان خود کو مسلماں کہتے کہتے………..

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s