Quran ka Safar – قرآن کا سفر

 زندگی کا ایک ایک دن گزرتے گزرتے سال پورا ہو جاتا ہے اور ہمیں پتا ہی نہیں چلتا ہےہر سال اسی طرح گزرتے گزرتے ایک دن زندگی کی مہلت پوری ہو جاۓ گی، اصل دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں سے کس نےاس وقت کو کتنا خیر کمانے میں گزارا خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو خیر کماتےاور خیر بانٹنے میں معاون و مددگار ہیں۔

ہم میں سے کس نےاس وقت کو کتنا خیر کمانے میں گزارا خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو خیر کماتےاور خیر بانٹنے میں معاون و مددگار ہیں۔

قرآن والے اہل اللہ اسکے خاص بندے ہیں یہ بہت بڑا اعزاز ہے اہل قرآن اللہ کی قربت پانے والے ہیں اللہ کے مقربین کے لیۓ خیر ہی خیر ہے وہ جو اللہ سے قریب ہیں اور جو اللہ سے دور ہیں ان کی زندگی اور انجام میں بہت فرق ہے

قرآن کے ذریعہ درجات بلند ہوتے ہیں جب اس کو پڑھا جاۓ عمل کیا جاۓ اور لوگوں کو تعلیم دی جاۓ اس سے مستقل تعلق رکھنا بلندیاں پانے کا ذریعہ ہے۔

دعا ہے کہ قرآن ہمیں جنت کی طرف لے جانے کا ذریعہ ہو کیونکہ قرآن پڑھنے والے کچھ لوگ بھی جہنم میں ڈالے جا ئیںگےجو اسکو دکھاوا کے لیۓ ، تعریف چاہنے کے لیۓ پڑھنے والے ہوں گے اسی طرح اس کو پڑھ کر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف بھی یہ قرآن حجت ہو گا

بدبخت ہے وہ کہ جس کو قرآن ملا اور اس نے اس کو سمجھنے اور پانے کے بعد بھلا دیا اور دنیا ہی کا ہو
کر رہ گیا ۔

قرآن کے عائد کردہ حرام و حلال کو زندگی میں لاگو کریں گے تو ہی تقوی آۓ گا ۔ محتاط زندگی گزارنا ہے کہ بعض دفعہ جہنم میں جانے کے لیۓ کوئ ایک جملہ ہی کافی ہوتا ہے۔

.اے اللہ ہمیں اس قرآن کے ذریعہ جنت کا لباس پہنا کہ اہل جنت کو سونے موتی کے زیوروں سے سجایا جاۓ گا
عزت و اکرام اس قرآن کے ذریعہ ہی ہے۔

مومن کا سب سے بڑا غم آخرت کا غم ہوتا ہے کہ آخرت میں میرے ساتھ کیا ہو گا میرے گناہ معاف ہوں گے یا نہیں میری نیکیاں قبول بھی ہوں گی یا نہیں جس کو آخرت میں اپنے انجام کو دیکھنے کا یقین ہو وہ بیٹھ نہیں سکتا ہے وہ عمل صالح کے لیۓ سرگرم ہو جاتا ہے ۔

جتنا قرآن کا علم زیادہ ہو جاۓ آخرت کی فکر بڑھ جاتی ہے جس کو آخرت کا غم لگ جاۓ اسکے دنیا کے غم کم ہو جاتے ہیں

جب مشکل آۓ تکلیف آۓ تو اللہ ہی سے فریاد کریں تنہائ میں اسی کو پکاریں پھر دیکھیں کہ اللہ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے یا نہیں اس سے محبت اور قربت بڑھتی ہے یا نہیں

یا اللہ ہمیں ان میں سے نہ بنانا جن کو شیطان نے دنیا میں ہی مگن کر دیا اور وہ اس قرآن سے دور ہوتے گۓ حتی کہ موت آ ئ تو وہ اس حال میں گۓ کہ جو شیطان کے پیروکار تھے بہت ڈرنے کی بات ہے قرآن پڑھ کےبے خوف نہ ہو جائیں کہ شیطان کا وار اہل قرآن پر بھی ہوتا ہے اس کے حملوں کا مقابلہ قرآن سے اللہ تعالی سےتعلق مضبوط رکھ کے ہی کیا جا سکتاہے ۔

قرآن کا سفر آخری سانس تک جاری رہے دوسروں کو ابلاغ دین کرتے ہوۓ اپنی عبادت صبح شام کے اذکار قرآن کی تلاوت کو نہ بھولیں یہ اہل قرآن کی غذا ہے جتنا آپ کا اللہ سے تعلق مضبوط ہو گا اتنا ہی زندگی میں برکت ہو گی ۔


تعلیم القرآن کی طالبات کواستاذہ فرحت ہاشمی کی نصیحت
اگست 2016

Advertisements